ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی اسمبلی میں ہنگامے کے درمیان کیجریوال کا وزیراعظم مودی پر سنگین الزام؛ کہا مودی نے 2012 میں25 کروڑ روپئے ادتیہ برلا گروپ سے حاصل کئے تھے

دہلی اسمبلی میں ہنگامے کے درمیان کیجریوال کا وزیراعظم مودی پر سنگین الزام؛ کہا مودی نے 2012 میں25 کروڑ روپئے ادتیہ برلا گروپ سے حاصل کئے تھے

Tue, 15 Nov 2016 18:17:27    S.O. News Service

نئی دہلی 15/نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) نوٹ بندي کے بعد پیدا ہوئے حالات کے پیش نظر بلائے گئے دہلی اسمبلی کے ایک دن کے خصوصی سیشن میں اُس وقت ہنگامے جیسی صورتحال پیدا ہوگئی، جب دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ایوان میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف الزامات کی جھڑی لگا دی. کجریوال نے وزیراعظم نریندر مودی پر راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی جب 2012 میں گجرات کے وزیر اعلی تھے تو اُس وقت 25 کروڑ روپئے ادتیہ برلا گروپ سے حاصل کئے تھے۔ کیجریوال کی تقریر کے دوران جب بی جے پی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر وجیندر گپتا نےمسلسل ہنگامہ کرنے کی کوشش کی تو بعد میں اسپیکر نے اُنہیں اسمبلی سے باہر کر دیا.

اروند کیجریوال نے کہا کہ نوٹ نہ ملنے کی وجہ سے لوگ خودکشی کر رہے ہیں. انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا کہ آزادی کے بعد پہلی بار کسی وزیر اعظم کا نام بلیک منی کے اکاؤنٹس میں آ رہا ہے. انہوں نے کہا کہ مودی حکومت امیروں اور بلیک منی رکھنے والوں کی دوست ہے اور غریبوں کی دشمن. انہوں نے کہا، 'لائن میں لگے لوگوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے جبکہ بڑے بڑے لوگ مودی جی کے دوست ہیں، ان سے لین دین کا رشتہ ہے. انہوں نے سوال کیا کہ چھوٹے لوگوں کو کیوں ستایا جارہا ہے ؟ '

کیجریوال نے الزام لگایا کہ 'ایک لاکھ 14 ہزار کروڑ کا قرضہ معاف کر دیا گیا. 8 لاکھ 55 ہزار کروڑ کا قرضہ  امیروں کو بانٹا گیا، جن میں سے 5 لاکھ کروڑ کا قرضہ ڈوب گیا ہے، سی اے جی کی رپورٹ بھی یہی کہتی ہے. ' دہلی کے وزیر اعلی نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈر تو یہ کہہ رہے ہیں کہ جو پیسے بینکوں میں جمع ہو رہے ہیں، ان کو مزید زیادہ لون دیا جائے گا. کیجریوال نے کہا کہ اب یہ لوگ ان پیسوں سے صنعت کاروں کو مزید  لون دیں گے. کجریوال نے سوال کیا کہ کیا ایسے میں عام لوگوں کا پیسہ محفوظ ہے ؟ کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم امیروں کے وزیر اعظم ہیں، بلیک منی والوں کے وزیر اعظم ہیں. اور یہ وزیر اعظم غریبوں کے دشمن ہیں. کجریوال نے سخت الفاظ میں مودی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ  آپ نے ملک کے عوام کو کڑوی چائے نہیں زہر پلا دیا ہے.

'وزیراعظم اپنے دوستوں کو بچا رہے ہیں'

کیجریوال نے کہا کہ مالیا جیسوں کے ایک لاکھ 14 ہزار کروڑ کا قرض معاف کر دیا گیا. مالیا کو 8 ہزار کروڑ دے کر بھگایا گیا. کیجریوال نے پوچھا کہ ان 648 لوگوں پر کارروائی کیوں نہیں ہوئی جن کے پاس کالا دھن ہونے کی بات ہے. دہلی کے وزیر اعلی نے کہا کہ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد اڈانی نے 5،468 کروڑ روپے ملک سے باہر بھیج دیئے. اڈانی پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی لیکن معاملہ کی تحقیقات کر رہے افسر کا تبادلہ ہو گیا. کیجریوال نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اپنے دوستوں کو بچا رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مودی جی کی لین دین کی دوستی ہے، لوگ مودی جی کو پیسہ دیتے ہیں اوربدلے میں مودی جی ان کا کام کرواتے ہیں. کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم نے نوٹ بندی کے بارے میں اپنے دوستوں کو پہلے ہی بتا دیا تھا.

'برلا نے گجرات سی ایم کو پیسے دیئے تھے'

اروند کیجریوال نے ایوان میں کچھ دستاویزات کے حوالے سے نریندر مودی پر سنگین الزام لگایا. انہوں نے دعوی کیا  کہ یہ دستاویزات انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے ہیں. جس کے مطابق 15 اکتوبر 2013 کو آدتیہ برلا گروپ پر انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے چھاپہ مارا، چھاپے میں ایک لیپ ٹاپ سمیت کاغذات اٹھائے گئے. انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ بنائی جس میں برلا گروپ کے کسی سکسینہ نام کے اکاؤنٹنٹ سے پوچھا گیا تو سکسینہ نے بتایا کہ وہ لوگ حوالہ کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کے باس شیوندو ہیں

کیجریوال نے کہا کہ شویندو امیتابھ برلا گروپ کے افسر تھے. ان کے لیپ ٹاپ سے کچھ نوٹ ملے. کیجریوال نے دعوی کیا کہ ایک نوٹ میں گجرات سی ایم کے آگے 25 کروڑ لکھا ہوا تھا. اس کے آگے 12 ڈن لکھا ہوا تھا. کیجریوال کے مطابق اُس وقت گجرات کے سی ایم کامطلب نریندر مودی ہیں۔ 

کیجریوال نے کہا کہ اسی رپورٹ میں برلا خاندان کے گجرات میں پینڈنگ پروجیکٹ کی فہرست بھیتھی، کجریوال نے سوال کیا کہ کیا پروجیکٹ کے لئے پیسے لئے گئے تھے ؟

انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس کے چھاپے کے 6 ماہ بعد مودی حکومت اقتدار پرآ گئی، جس کی وجہ سے تحقیقات بند کر دی گئی ہے اور کیس کو رفع دفع کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں.

کانگریس اور بی جے پی میں ڈیل کا الزام
کیجریوال نے کانگریس اور بی جے پی میں ڈیل کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کانگریس والوں نے بھی کچھ نہیں بولا، یعنی کچھ نہ کچھ تو ڈیل ہوئی ہے کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ... ان کا سودا پکا ہے ... واڈرا کے خلاف کارروائی نہ کرنا ... ایسی ڈیل ہو سکتی ہے دونوں میں . '

کیجریوال نے کہا کہ سہارا کے یہاں بھی چھاپہ مارا گیا وہاں کچھ کاغذات ملے، ان میں بھی نریندر مودی کے نام ہے، مگر سارے کاغذات میرے پاس نہیں ہے ... ان کاغذوں میں 400-450 کروڑروپئے دینے کی بات لکھی گئی ہے ... مودی اور کئی دوسرے رہنماؤں کے نام ہے ...کجریوال نے سوال کیا کہ اب ان کی جانچ کون کرے گا؟  آزادی کے بعد پہلی بار کالے دھن کے اکاؤنٹس میں کسی وزیر اعظم کا نام آیا ہے .... صدر سے گزارش ہے کہ ان کاغذوں کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں کمیٹی بٹھائی جائے اور جانچ کرائی جائے. '


Share: